ابنا: امریکہ کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کےعرب اتحادی عنقریب شام پر حملہ کا آغاز کردیں گے۔ امریکی اہلکار کے مطابق یہ حملے تین دن تک جاری رہیں گے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام پر بغیر کسی شواہد کے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرکے فوری طور پر شام پر فوجی حملہ کا منصوبہ بنایا لیا ہے جس میں سعودی عرب اور ترکی کی بھی امیرکہ کو حمایت حاصل ہے۔
شام پر ممکنہ امریکی حملہ اسرائیل کی تباہی کا پیش خیمہسنہ دو ہزار تین میں امریکہ نے عراق پر حملے سے قبل شور مچانا شروع کردیا تھا کہ عراق کے پاس عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے عراق کا کونہ کونہ چھان مارا لیکن ان کو وہاں سے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار ملنا تھے نہ ملے۔ اس کے باوجود امریکی حکام نے عراق کے پاس عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر اس عرب اور مسلمان ملک پر حملہ اور قبضہ کرلیا۔ اب ایک عشرہ گزرنے کے بعد سنہ دو ہزارتیرہ میں ایک بار پھر امریکہ ایک اور اسلامی اور عرب ملک شام پر حملے کے لۓ پرتول رہا ہے ۔ اب کی بار وہ یہ پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ شام کی حکومت نے مسلح دہشتگردوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کۓ ہیں۔ امریکی حکام کہہ رہے ہیں کہ بشار اسد کی حکومت نے ریڈ لائن عبور کرلی ہے اور وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کررہے ہیں۔ اس بات سے قطع نظرکہ امریکی حکام نے جس طرح عراق کے بارے میں جھوٹ بولا تھا اسی طرح وہ شام کے بارے میں بھی جھوٹ بول رہے ہیں یہاں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں مثلا یہ کہ کیا امریکی حکام شام کو بھی عراق ہی سمجھ رہے ہیں؟ کیا ان کو بشار اسد اور صدام حسین کا فرق بھی معلوم نہیں ہے؟ کیا ان کو دو ہزار تین اور دو ہزار تیرہ کے ایک دوسرے سے مختلف حالات سے آگاہی نہیں ہے؟ کیا ان کو شام پر فوجی حملے کے خطرناک نتائج تک کی سوجھ بوجھ بھی نہیں ہے؟ کیا وہ اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ شام کے خلاف فوجی کارروائي کی صورت میں ناجائز صہیونی ریاست کا وجود ہی مٹ جائے گا؟ اور کیا امریکی حکام شام پر ممکنہ حملے کی یہ قیمت چکانے کے لۓ آمادہ ہیں؟شام پر امریکہ کے ممکنہ فوجی حملے کےبارے میں پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار جناب راشد احد کا تبصرہ سننے کے لۓ نیچے کلک کیجۓ۔
روس زنداباد شام کیخلاف کارروائی ہوئی تو سعودیہ پر حملہ کر دینگے
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے فوج کو حکم دیا ہے کہ شام پر مغربی ملکوں کے حملے کی صورت میں سعودی عرب پر حملہ کر دیا جائے۔ دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے ایک بار پھر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے شام کے حوالے سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر نے فوج کو ”ارجنٹ ایکشن میمورنڈم”جاری کیا ہے جس کے تحت شام پر حملے کی صورت میں سعودی عرب پر حملے کا حکم دیا گیا ہے۔ امریکی صدر دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں سے فون پر رابطے کر رہے ہیں تاکہ شام کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لئے عالمی رائے ہموار کی جائے۔ وائٹ ہاس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ صدر اوباما کی وزیراعظم کیمرون کو دوسری کال تھی۔ اکیس اگست کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد صدر اوباما اور وائٹ ہاس کے اعلی عہدیدار اٹھاسی کالز کر چکے ہیں۔خبریں ہیں کہ شام کیخلاف امریکا، برطانیہ اور فرانس اگلے چند روز میں فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔ واضع رہے کہ کیمیائی حملے کے تناظر میں مغربی ممالک کی جانب سے شام کو سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔ مغربی ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگلے چند روز کے اندر اندر بشارالاسد حکومت کے خلاف فوجی کارروائی ہو سکتی ہے۔دوسری جانب امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ امریکی افواج خطے میں موجود ہیں اور صدر باراک اوباما کا حکم ملتے ہی فوری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ چک ہیگل نے بتایا کہ خفیہ ایجنسیاں ان شواہد کو بھی مرتب کر رہی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ دمشق کے نواح میں ہونے والا کیمیائی حملہ بشارالاسد کی حامی فورسز نے کیا اور یہ معلومات اگلے چند روز میں جاری کر دی جائیں گی۔
بحران شام کے سلسلے میں مغرب کے رویّے پر ویٹیکن کی تنقیدویٹیکن کے سرکاری اخبار اوسرویٹررومانو نے بحران شام کے بارے میں مغربی ملکوں کے طرز عمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کے سلسلے میں منطقی طریقہ اختیار کریں۔ اس اخبار نے لکھا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں، منطقی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے شام پر حملے کی فراق میں ہیں جبکہ مسائل کو حل کرنے میں مذاکرات سے بڑھکر کوئی طریقہ بہتر نہیں ہے۔دنیائے کیتھولیک کے رہنما پوپ فرانسیس نے بھی حال ہی میں عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ شامی عوام کی مدد اور اس ملک کے بحران کا پرامن راہ حل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ اقوام متحدہ میں ویٹیکن کے مستقل مندوب نے بھی بحران شام اوراس ملک کی حکومت پر عائد کئے جانے والے الزامات کے سلسلے میں انصاف سے کام لئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ امریکہ و برطانیہ سمیت بعض مغربی ممالک، شام کی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے اس ملک کے خلاف فوجی حملہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے علاقے کے حالات مزید ابتر ہوسکتے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام کی حکومت، ہمیشہ یہ دعوی کرتی رہی ہے کہ اس نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا ہے۔
شام کے خلاف امریکی دھمکیوں پر مختلف ردعملشام پر فوجی حملے کے لیے امریکہ اور مغرب کی حالیہ دھمکیوں اور دمشق کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کے زیراثر میڈیا کی نفسیاتی جنگ پر علاقائی سطح پر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب ان دھمکیوں پر خوش ہے اور اس نے شام پر فوجی حملے کے منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بعض خبروں کے مطابق سعودی عرب کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بندر بن سلطان نے کہ جو علاقے میں امریکہ کے ایک فیلڈ کمانڈر میں تبدیل ہو چکا ہے، واشنگٹن کے فوجی حکام کو شام پر فوجی حملے کے منصوبے پر عمل درآمد کی ترغیب دلانے کے لیے براہ راست ستر ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی واشنگٹن کے سفارتی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ شہزادہ بندر بن سلطان نے شامی مخالفین کی کمان کے مراکز، الیزہ پیلس، دیگر یورپی حکومتوں حتی کرملن ہاؤس سے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی پہلی ترجیح پر عمل درآمد اور درحقیقت شام کے سیاسی نظام کو ختم کرنے کے لیے براہ راست رابطہ قائم کیا ہے۔ اس اخبار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر کو بھی اس بات پر مامور کیا گيا ہے کہ وہ کانگرس اور اوباما حکومت کے شش و پنج میں مبتلا ارکان کو شامی حکومت کے خاتمے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے قائل کریں۔اسی دوران اسلامی جمہوریہ ایران علاقے میں جنگ اور فتنے کی آگ کو خاموش کرنے کے لیے صلاح و مشورہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کے روز تہران میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سیاسی مشیر جیفری فلٹمین سے ملاقات میں ایک بار پھر شام میں قتل و غارتگری اور جنگ و خونریزی کے خاتمے کے لیے ایک سیاسی راہ حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ بعض کا یہ خیال ہے کہ شام کے مسئلے کی فوجی راہ حل ہے، مزید کہا کہ افسوس ان دنوں ہم طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کی خبریں سن رہے ہیں کہ جو تشویش ناک ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ دھمکیاں سنجیدہ ہیں؟ جواب دیا کہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ یہ دھمکیاں سنجیدہ ہیں یا نہیں؟ اہم بات یہ ہے کہ بعض حکومتیں اپنے آپ کو اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ وہ اکیسویں صدی میں قرون وسطی جیسی زندگي گزاریں۔ وہ یہ بات بھول گئی ہیں کہ مہذب ممالک نے ساٹھ سال قبل یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کا آپشن ترک کر دیں گے۔دوسری جانب مصر کے وزیر دفاع نے بھی شام کے خلاف مغرب کی دھمکیوں کے بارے میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بحری جہاز کو شام پر حملے کے لیے نہر سویز سے گزرنے کا حق نہیں ہے۔ عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر کی حکومت شام کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پابند ہے۔یہ موقف ایک ایسے وقت میں بیان کیے جا رہے ہیں کہ جب ماسکو نے بھی شام میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کے بارے میں خبردار کیا ہے اور اسے علاقے کے لیے ایک المیہ سے تعبیر کیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرہ کار سے ہٹ کر شام میں فوجی مداخلت سے ایک المیہ رونما ہو گا۔ روس نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے اور شام کے بارے میں بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔
شام کے خلاف مغربی شازش شروعبرطانوي وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون نے برطانوي پارليمنٹ سے شام پر حملے کي اجازت طلب کي ہے۔ لندن سے موصولہ رپورٹ کے مطابق برطانوي وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون نے منگل کے روز پارليمنٹ سے درخواست کي ہے کہ شام کے بارے ميں فيصلہ کرے اور جمعرات سے دمشق کے خلاف فوجي حملے کي اجازت دے ۔ اس درميان ڈيوڈ کيمرون کے دفتر نے بھي منگل کے روز اعلان کيا ہے کہ برطانوي افواج شام کے خلاف فوجي اقدام کے منصوبوں کا جائزہ لے رہي ہيں۔برطانوي وزير اعظم کے دفتر کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ حکومت شام کے خلاف فوجي اقدام کي راہوں کا جائزہ لے رہي ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ برطانوي وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون نے پير اور منگل کو شام پر حملے کے بارے ميں امريکي صدر باراک اوباما، جرمن چانسلر انجيلا مرکل اور فرانسيسي صدر فرانسوا اولينڈ سے ٹيليفون پر تبادلہ خيال کيا ہے۔شام کے متعلق نیٹو کا ہنگامی اجلاسشام کے متعلق نیٹو ہنگامی اجلاس کرنے جار رہا ہے۔ روسی خبر رساں ایجینسی اتارتاس نے نیٹو کے عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ یہ تنظیم شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں ہنگامی اجلاسے کرنے جا رہا ہے۔ اس رپورٹ کےمطابق، 29 اگست کو یہ اجلاس منعقد ہوگا جو مختصر ہوگا۔ نیٹو کے اس ہنگامی اجلاس کی خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب قبل از ایں امریکا اور برطانیہ نے شام کے داخلی امور میں اپنی مداخلت پسندانہ پالیسی کے تناظر میں علاقے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔واضح رہے کہ 21 اگست کو دمشق کے کئی مضافاتی علاقوں پو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگرودں نے کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کئے لیکن مغربی ممالک نے ان حملوں کا الزام حکومت شام پر لگایا ہے جبکہ 19 مارچ کو حلب کے خان العسل میں ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے حملےکی تحقیق کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم شام میں موجود ہے اور اقوام متحدہ کے وفد نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور زخمیوں سے ملاقات کی۔دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے ک